میں نے 2006 میں چناب کالج میں داخلہ لیا 2006 سے 2013 تک بے شمار واقعات پیش آئے لیکن آج میں ایک واقعہ گوش گزار کرنا چاہتا ہوں اور یہ واقعہ کسی اور کا نہیں بلکہ حال ہی میں بے دردی سے قتل ہوئے ضیغم مجتبیٰ کا ہے
ساتویں یا آٹھویں جماعت میں کچھ نئے طالبِ علموں نے بھی داخلہ لیا ان لوگوں میں سے ایک طالب علم ضیغم مجتبیٰ بھی تھا ۔ میری اس سی کوئی گہری دوستی نہ تھی، بس سلام دعا ہی تھی اس کے ساتھ باتوں سے پتا چلا کہ ضیغم مجتبیٰ کے والد کا انتقال ہو چکا ہے اور والدہ ہی گھر کو چلا رہی ہیں ۔
خیر وہ سال تو نیسے تیسے گزر گیا فروری 2012 میں ہمارے پرچے ہو رہے تھے دوسرے طالبِ علموں کی طرح ضیغم بھی روزانہ ملت تھا ایک دن ایسا ہوا کہ ہمارے دو پرچے تھے درمیانی وقفے میں ہم نے آلو والے نان کھانے کا پروگرام بنایا تو ہم دونوں نے دوستوں سے سائیکل ادھار لئے اور عباس پورہ سکول سے نکلے ہم وہاں سے خالد بن ولید روڈ پر گئے جہاں ضیغم مجتبیٰ نے مجھے ایک جگہ روکا اور ایک سکول میں داخل ہوا۔ بعد میں اس نے بتایا کہ اس کی والدہ وہاں پر استانی ہیں۔ ہم نے لاہوری نان شاپ پر 2یا 3 نان کا آرڈر دیا تھا اب میں نے اردگرد غور نہ کیا میرے بڑے بھائی بھی وہاں پر نان خریدنے آئے ہوئے تھے اور انہوں نے ہی ہمارا بھی بل دیا اور ہم کھانا کھا کر واپس پرچہ دینے پہنچے تو تھوڑا سا وقت زیادہ ہو چکا تھا لیکن پھر بھی ہم نے پرچہ دیا۔
اس سے واقعہ ایک سال بعد یعنی 2 مارچ 2013 کو میں نے ضیغم کو آخری بار دیکھا تھا اس کے بعد میرا اس سے کوئی رابطہ نہ تھا۔
7اگست کی صبح موبائل فون پر ایک دوست کے میسجز آئے ہوئے تھے کہ ضیغم مجتبی کی ایک ایکسیڈنٹ میں موت ہو گئی ہے۔ بعد میں جب خبر پڑھی کہ دوست نے ہی قتل کیا ہے اور توساتھ میں تصویر بھی تھی تو میں چکرا گیا کہ کتنا خوبرو نوجوان اور کتنی بیدردی سے اس بیچارے کو قتل کیا گیا ہے
آخر کیا وجہ تھی اسے کیوں قتل کیا گیا؟ اور اگر قاتل دوست تھا تو اس نے قتل کیوں کیا؟ کیا ضیغم مجتبیٰ یا اس کے کسی جاننے والے کو اس معاملے کی کوئی خبر تھی؟ آخر ایسا خوبرو نوجوان قتل کیوں ہوا؟کیا گھر والوں کو یہ معلوم نہ تھا کہ اس کے دوست کس قسم کے ہیں؟
یہ ساری باتیں ابھی راز ہی ہیں
ضیغم مجتبیٰ کی لاش چیخ چیخ کر دہائی دے رہی تھی لیکن لاش کی آواز کون سن سکتا ہے

Yes we all wants justice
ReplyDelete👍
DeleteKhuda Dekh raha ha. Meri dua ha k zaigham ko insaf mily
ReplyDeleteAmeen
DeleteCulprits should be arreseted and hanged soon
ReplyDelete👍
Deleteہمارا معاشرہ انفرادی طور پر نہیں بلکہ اجتماعی طور پر ان گنت مسائل کا شکار ہے
ReplyDeleteOfcourse
Delete